خبر والے: پوشیدہ بھوک کا خاتمہ ممکن بنانی کیلیے مشعل کی مہم

پاکستان کے ترقیاتی کاموں میں میڈیا کو بھی اپنا حصہ ڈالنا چاہیے خصوصی طور پر شہریوں کے لیے معیاری اورشفاف سہولتوں کی فراہمی میں‌آگے بڑھ کر کام کرنا ہوگا ،، اس بات پر مشعل پاکستان نے ورلڈ اکنامک فورم اور آسٹریلین ہائی کمیشن اسلام آباد کے تعاون سے کراچی میں ایک روزہ ورکشاپ میں زور دیا گیا،،، معاشرے سے ” پوشیدہ بھوک کا خاتمہ” کے عنوان سے ورکشاپ میں سینئر صحافی ، رپورٹرز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے،،، مشعل کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سندھ کے 70.8 فیصد گھروں میں معیار سے کم تر خوراک استعمال کی جارہی ہے اسی طرح پنجاب میں 65.5، خیبر پختونخواہ میں 67.4 بلوچستان میں 83.4 افراد کو غذائیت سے بھرپور خوراک میسر نہیں ہے ،،، سینئر صحافی اور اینکر مبشر زیدی نے مشعل پاکستان کی جانب سے پوشیدہ بھوک کے خاتمے کے لیے میڈیا کے ذریعے جو مہم شروع کی ہے وہ قابل ستائش ہے،، ان کا کہنا تھا کہ حقائق پر مبنی اعداد و شمار پر مبنی رپورٹنگ ہونی چاہیے اور رپورٹرز پر صحت سے متعلق تحقیقاتی خبروں پر بھی توجہ دینی چاہیے ،،، سینئر صحافی ندیم رضا نے اعتراف کیا کہ میڈیا کو سماجی شعبہ میں‌ جس طرح کا کردار ادا کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کر سکا ،، انہوں نے اس کی بنیادی وجہ الیکٹرانک میڈیا کی بے جا تیزی کو قرار دیا ،،

Source: http://khabarwalay.com/archives/29221

Comments for this post are closed.